ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کلکتہ میں سائبر چوروں کا گروہ سرگرم ؛ ڈاکٹروں کو بنارہے ہیں نشانہ

کلکتہ میں سائبر چوروں کا گروہ سرگرم ؛ ڈاکٹروں کو بنارہے ہیں نشانہ

Mon, 24 Aug 2020 12:30:27    S.O. News Service

کلکتہ،24؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سائبر چوروں کے ذریعے عام لوگوں کو لوٹنے کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں یہ کسی بھی شخص کو  فون کرکے انہیں  بے وقوف بنا کر موبائل  پر موصول ہونے والے OTP کی معلومات دریافت کرتے ہیں اور پل بھر میں لوگوں کے اکاونٹ سے پیسے غائب کردیتے ہیں، مگر اب تازہ اطلاع یہ موصول ہوئی ہے کہ  اب سائبر چوروں کا گروہ کلکتہ کے ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے میں لگ گئے ہیں اور خبریں آرہی ہیں کہ کلکتہ میں کورونا کے خلاف  لڑنے والے ڈاکٹرس دھوکہ  کھارہے ہیں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کلکتہ میں  کئی افراد ان گروہ کا شکار بن کر ہزاروں اور لاکھوں روپے کا نقصان کر چکے ہیں۔ یہ لوگ خود کو کیب کمپنی کے اہلکار بتاکر فون کرتے ہیں او ر کیپ میں چھوٹ دینے کے نام پر OTP  بھیجتے   ہیں اور بولتے ہیں ہے کہ بھیجے گئے لنک پر او ٹی پی نمبر کلک کریں۔ سننے میں آیا ہے کہ ٹیکسی کمپنی سے چھوٹ لینے کے نام پر بہت سے ڈاکٹروں نے اپنے روپے گنوا دیئے ہیں۔

مرشد آباد کے بوبازار اسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے تھے۔ ٹیکسی سے اترنے کے بعد فون آیا کہ وہ ٹیکسی کمپنی سے بات کر رہے ہیں۔ اس نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں؟ جواب میں کہا کہ اگر میں ڈاکٹر ہوں تو سامنے والے شخص نے لنک بھیج کر کہا کہ چوں کہ آپ ڈاکٹر ہیں اس لئے کیپ کمپنی نے آپ کے لئے خصوصی آفر دیا ہے۔ اس لنک پر اوٹی پی کلک کریں۔ مگر جیسے ہی اوٹی پی درج کیا میرے وائلٹ سے 20 ہزار روپے کٹ گئے۔

ایک اور ڈاکٹر نے شکایت کی ہے کہ اسی طرح اس کے کھاتے سے ایک لاکھ روپے کٹ گئے ہیں۔ حال ہی میں سی بی آئی کو انٹرپول سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ایک بینک فراڈ گروپ بہت سے لوگوں کو  شکار بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ بنگال میں سرگرم یہ گروہ زیادہ تر کورونا وارئیرس کو اپنا شکار بنا رہا ہیں۔

کلکتہ پولیس نے اسی طرح کے ایک کال سینٹر کا انکشاف کیا ہے۔ چار کال سنٹرز دو ہفتوں میں پکڑے گئے ہیں، جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے پاس سے ہارڈ ڈسک، موبائل فون، چیک بکس، اے ٹی ایم کارڈ اور بہت سارے دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ان سب کے خلاف آئی ٹی ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔


Share: